Find us on Facebook
Problems Faced by Women Voters during casting their votes.
Polling Staff without Polling Material
Gallery
ddd_8595 ddd_8592 ddd_8577 ddd_8571 ddd_8568 ddd_8565
05/21/2013 The Muttahida Qaumi Movement (MQM), the Pakistan People’s Party (PPP), and the Majlis Wahdatul Muslimeen (MWM) had boycotted the re-polling after the ECP rejected their...read more
05/21/2013 Troops, police and paramilitary rangers backed up by armoured personnel carriers guarded the 43 polling stations in the NA-250 constituency, following claims of ballot-st...read more
Created by wp news slider

تاریخ کے تاریک راستوں پر…سویرے سویرے

کیا ہم تاریخ کے تاریک راستوں پر کافی دور نکل آئے ہیں؟ گردوپیش نگاہ ڈالنے سے تو یہی لگتا ہے۔ معیشت تیزی

تاریخ کے تاریک راستوں پر...سویرے سویرے

تاریخ کے تاریک راستوں پر...سویرے سویرے

کے ساتھ دم توڑتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ امریکہ اور قرض دینے والے مالیاتی اداروں کے تیور ٹھیک نہیں لگتے۔ حکومت ان کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کرنے کے قابل نہیں رہی۔ دنیا میں نہ اس کمپنی کی ساتھ قائم رہ سکتی ہے اور نہ اس ملک کی‘ جو لین دین کے معاملے میں مسلسل وعدہ خلافیاں کرتا ہوں۔ ہماری حکومت کی وعدہ خلافیوں سے قرض دینے والے اکتا چکے ہیں۔ لیکن حکومت کیا کرے؟ وہ ایک ٹیکس لگا کر خسارے میں کمی کرنے کے مطالبے پورے کرنا چاہتی ہے‘ تو اس کا وجود ہی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ سیاسی مخالفین اور اتحادی دونوں ہی اس ٹیکس کی مخالفت کرتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ اگر یہ ٹیکس نہ لگایا گیا‘ تو آئی ایم ایف کی طرف سے سخت اقدامات ہو سکتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود سب نے حکومت کی بے بسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ ٹیکس نہیں لگنے دیا۔ حکومت نے پٹرول کی قیمت بڑھا کر تلافی کرنے کی کوشش کی‘ تو اسے عدم اعتماد کا خطرہ لاحق ہو گیا۔ ناچار اسے یہ فیصلہ بھی واپس لینا پڑا۔ بظاہر اس کے پاس خسارے میں کمی کرنے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے کے لئے کہا جاتا‘ جو کہ اس کے بس میں نہیں۔ پندرہ بیس وزیر نکالنے سے بچنے والی رقم‘ خسارے کے اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہو گی۔ مگر حکومت یہ بھی نہیں کر سکتی۔ اس وقت وہ ایک دو ووٹوں کے سہارے کھڑی ہے۔ 20وزیرنکال کر 20 ووٹوں سے محروم ہونے کا حوصلہ کیسے کرے گی؟
معاشرہ ہے کہ بکھرتا چلا جا رہا ہے۔ بجلی اور گیس کی قلت سے لوگ پریشان ہیں۔ گھروں میں چولہے نہیں جل رہے۔ فیکٹریوں میں کام نہیں ہو رہا۔ تکلیف کے مارے لوگوں کے جلوس نکل رہے ہیں۔ مظاہرے ہو رہے ہیں۔ چوروں اور ڈاکوؤں کی بن آئی ہے۔ کوئی علاقہ محفوظ نہیں اور پولیس ان پر ہاتھ ڈالنے سے قاصر ہے۔ اغوا برائے تاوان کی وبا پنجاب میں پھیل رہی ہے۔ نئے نئے گروہ جنم لے رہے ہیں۔ جو کھاتا پیتا شخص چوری اور ڈاکے سے محفوظ رہ جاتا ہے‘ اسے اغوا برائے تاوان والے دبوچ لیتے ہیں۔ مہنگائی لوگوں کی قوت خرید کو بہت پیچھے چھوڑ گئی ہے اور آنے والے دنوں میں اس میں ہوشربا اضافہ ہو گا۔ سرمایہ کاری کا ماحول ہی ختم ہو گیا۔ امن و امان کی بدتر صورتحال ہی کیا کم تھی؟ کہ بجلی اور گیس کی قلت نے سرمایہ کاروں کے حوصلے پست کر دیئے ہیں۔ مستقبل قریب میں یہ کبھی ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ پہلے حکومت کی رٹ صرف امن و امان قائم کرنے میں ناکامی کی حد تک تھی۔ اب وہ سیاسی اور معاشی طور پر بھی بے بس ہو چکی ہے۔ پہلے وہ ٹیکس وصول کرنے میں ناکام رہتی تھی۔ اب ٹیکس لگانے کے قابل بھی نہیں رہ گئی۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ روزمرہ کا معمول بن چکی ہے۔ سیاسی کشیدگی میں یہ بڑھ جاتی ہے اور سیاسی سمجھوتے ہو جائیں‘ تو اس میں کمی آ جاتی ہے لیکن ٹارگٹ کلنگ کا خاتمہ ہونے میں نہیں آ رہا۔ چند روز پہلے تک حکومتی اتحاد میں کوئی دراڑ نہیں تھی۔ مگر اچانک مولانا فضل الرحمن نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر کے سیاسی ہلچل بھی پیدا کر دی۔ ہرچند حکومت اس میں سے عارضی طور پر بچ گئی ہے‘ مگر ایم کیو ایم سے ایک جھٹکا لگنے کے بعد اس کی بے بسی نمایاں ہو کر سامنے آ گئی تھی۔ ہرچند ایم کیو ایم کی حمایت دوبارہ حاصل کر لی گئی‘ مگر پیٹ سے پردہ اٹھ چکا ہے۔ دیکھنے والوں نے دیکھ لیا ہے کہ اس سیاسی نظام میں کتنا دم ہے؟
مولانا کے حکومت سے نکلتے وقت آسیہ بی بی کا معاملہ ایک تکرار تک محدود تھا۔ گورنر سلمان تاثیر اور صوبائی حکومت کے مابین تعلقات کشیدہ تھے اور عام طور سے یہی سمجھا جا رہا تھا کہ آسیہ بی بی کا معاملہ بھی سیاسی کشمکش کا حصہ ہے۔ کسی کی اس پر خاص توجہ نہیں تھی۔ لیکن مولانا نے پہلی ہی کانفرنس میں ناموس رسالتﷺ کا مسئلہ نمایاں کر کے پیش کیا اور احتجاجی تحریک پیش کرنے کا اعلان کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک مہم چلی اور پھر جذبات کا ایسا طوفان اٹھ کھڑا ہواکہ گورنر تاثیر کے اپنے ہی محافظ نے انہیں گولیوں سے بھون ڈالا۔ اسی پر بس نہیں‘ ان کی موت پر بعض طبقوں میں خوشی کے شادیانے بجائے گئے اور ان کے قاتل کو ہیرو بنا کر پھولوں سے لادا جا رہا ہے۔ دلیل اور منطق کا دورختم ہو چکا ہے۔ قانون ہاتھ میں لینے کا رواج پھیل رہا ہے۔ کیا یہ سب کچھ اتفاق ہے؟ میرے خیال میں نہیں۔ یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق ہو رہا ہے اور اس طرح کے سارے واقعات تاریک راستوں پر ہمارے سفر کی رفتار تیز کر رہے ہیں۔ کل رات سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج مسٹر جسٹس جاوید اقبال کے والدین کو قتل کر دیا گیا۔ پاکستان بار کونسل کی صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا ”ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس قتل میں ججوں کے لئے کوئی پیغام نہیں ہے۔ لیکن ہم اس امکان کو رد بھی نہیں کر سکتے۔ وہ ان دنوں بڑے حساس مقدمات سن رہے ہیں۔“ یہ حساس مقدمات ہم سب کے علم میں ہیں۔ سلمان تاثیر کے قتل سے جمہوریت پسندوں کو ایک پیغام دیا گیا ہے‘ تو اس قتل میں‘ عدلیہ کے لئے کوئی اور پیغام مضمر لگتا ہے۔ میں ججوں کی بحالی کی تحریک کے دوران جب بے لگام خواہشوں پر مبنی نعرے سنتا تھا‘ تو بار بار لکھا کرتا تھا پاکستانی معاشرے میں اتنا بڑا انقلاب نہیں آیاکہ ہمارے ہاں طاقت کے مراکز عدلیہ کی بالادستی کو اس حد تک تسلیم کر لیں ۔ کسی نہ کسی دن طاقت کے مراکز پلٹ کر ضرور جھپٹیں گے۔ ایک عزت مآب جج کے والدین کا قتل اسی سلسلے کی ابتدا نہ ہو؟ میں ابھی سے بتا سکتا ہوں کہ ان دو بزرگ ہستیوں کے قاتل کبھی نہیں پکڑے جائیں گے۔ ایسی مہارت کے ساتھ قتل کرنے والے کبھی کسی کے ہاتھ نہیں آئے۔
دنیا میں ہمارے تاریک مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں‘ تو کچھ دانشور اور مدبر ایسے بھی تھے جو روشنی کی کرن دیکھ لیا کرتے تھے اور جواب میں کہتے تھے کہ پاکستان میں سنبھل کر دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی بھرپور صلاحیتیں موجود ہیں اور یہ ملک دوبارہ مستحکم ہو گا۔ لیکن سلمان تاثیر کے قتل کے بعد وہ بھی مایوس ہو گئے۔فرید زکریا انہی میں سے ہیں۔کل انہوں نے ”واشنگٹن پوسٹ“ میں لکھا۔
”میرا ہمیشہ سے یقین تھا کہ معاملات پاکستان کے گورننگ ایلیٹ کے کنٹرول میں ہیں۔ اس ملک کی فوج ملک کو ڈوبنے نہیں دے گی اور اس کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں۔ لیکن گذشتہ ہفتے کے بعد میں پریقین نہیں رہ گیا۔“ ملک کے ممتاز ماہر اقتصادیات شاہد جاوید برکی پاکستان کی اقتصادی حالت پر بہت پریشان ہیں۔ انہیں اندیشہ ہے کہ ”ہمارے ہاں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کی بیروزگاری حالات کو مزید بگاڑے گی۔ پیداواری نوکریاں نہیں ملیں گی‘ تو وہ انتہاپسندوں کو طاقت مہیا کریں گے۔“ پاکستانی امور کے ماہر سٹیفن پی کوہن بھی ان لوگوں میں شامل ہیں‘ جو ہمارے مستقبل کے بارے میں پرامید تھے۔ لیکن اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا ”امید کوئی پالیسی نہیں ہوتی لیکن مایوسی بھی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ ہم وہی کچھ کرتے ہیں‘ جو کچھ ہم کر سکتے ہیں اور اب ہمیں پاکستان کی ناکامی کے لئے تیاری کرنا ہو گی‘ جو کہ (خاکم بدہن) پانچ یا چھ سال میں ہو جائے گی۔“ہمارے فیصلے ہمارے ہاتھ میں نہیں رہ گئے۔ یہ فیصلے اب وقت کرے گا۔

Leave a Reply