Karachi partial re-polling: PTI’s Arif Alvi wins NA-250 seat
KARACHI: After much debate, allegations and counter-allegations between political parties, a partial re-run of the vote in 43 polling stations of NA-250 (Karachi-XII) concluded peacefully and efficiently on Sunday, amid tight security provided by police, Rangers and army personnel.
As unofficial results from the re-polls poured in late Sunday night, Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) appeared far ahead of the pack.
Dr Arif Alvi, PTI’s candidate for the National Assembly seat, led with 17,541 votes – a staggering lead considering his sole rival for the constituency, Jamaat-e-Islami’s Naimatullah Khan, could muster around 446 votes, despite Jamaat-e-Islami’s boycott.
Unofficial results for NA-250’s corresponding provincial assembly constituencies – PS-112 and PS-113 – were similarly encouraging for PTI. Its candidate for PS-112, Khurram Sher Zaman, secured 2,521 votes from seven polling stations, against his opponent Khalid Iqbal of Awami National Party who could only secure 177 votes.
PTI candidate for PS-113 Samar Ali Khan, meanwhile, polled 9,501 votes, according to the results of 28 polling stations. His rival candidate, Saleem Zia of Pakistan Muslim League-Nawaz bagged around 3,291 votes.
Till the filing of this report, election staff was still busy counting the votes from 43 stations.
Talking to The Express Tribune, a senior Election Commission official said that Dr Alvi had unofficially been elected to the National Assembly seat. According to the official, Alvi secured around 51,000 votes on May 11, against Muttahida Qaumi Movement candidate Khushbakht Shujaat, who received around 47,000 votes, and Pakistan Peoples Party candidate Rashid Rabbani, who received around 17,000 votes.
With their respective parties’ decision to boycott the partial re-run of polls, their chances of defeating Alvi have been virtually erased.
“After adding the results from the re-polls, Alvi’s vote count may rise up to 68,500,” the official maintained, adding that the final results would be announced by May 22.
More than 80,000 voters had been registered in the 43 polling stations where the re-polls were scheduled to take place. While the process ended without any untoward incident – as opposed to May 11, which witnessed mismanagement and staggering delays, amid allegations of rigging – the turnout on Sunday was much lower than Election Day. In several stations, the turnout was as low as 30-40%, compared to 55-60% on May 11.
The low turnout can be gauged from the example of Aram Bagh polling station, where only 49 votes were cast against 1,400 registered voters. Similarly, while 1,100 voters were registered at the polling station near the Railway Station, only 500 people turned up to cast votes on Sunday.
A higher turnout was witnessed in the DHA and Clifton areas, despite fears stoked by the killing of senior PTI leader Zahra Shahid Hussain the night before.
“We are really happy to see the arrangements made by the ECP. If such measures had been taken on May 11, the situation would have been much better,” said Abdul Haq, a senior citizen who came to vote at the Aisha Bawany School.
Courtesy: The Express Tribune
خامیوں سے بھرپور الیکشن 2013
الیکشن مئی۲۰۱۳ء کو ملک کا تاریخی الیکشن تصورکیا جا رہا ہے ان انتخابات میں جہا ں بہت سی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں وہاں بہت کچھ پچھلے انتخابات جیسا ہی رہاملک بھر میں قومی اسمبلی کی 272 نشستوں کے لیے جبکہ سندھ اسمبلی کی 130 نشستوں کے لیے انتخابات لڑے گئے۔انتخابات میں ٹرن آؤٹ %60 سے کراس کر گیا جو کہ ایک ریکارڈ ہے 1970ء کے انتخابات کے بعد ایسا ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا۔اتنا ٹرن آؤٹ ہو نے کے باوجود متوقع انقلاب تو نہ آسکانہ ہی چہرے بدلے لیکن کچھ جماعتوں کی تاریخ ضرور بدل گئی۔ ملک کی سب سے بڑی جماعت پی پی پی تیسرے نمبر پر جا پہنچی جبکہ مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں واضح اکژیت حاصل کر کے پہلے نمبر پر جگہ حا صل کر لی جبکہ ملک کی ابھرتی ہوئی جماعت پی ٹی آئی بڑی جماعتوں میں اپنی جگہ بنا تے ہوئے دوسرے نمبر پر آگئی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کیے گئے انتظامات میں بہت سی خامیاں دیکھی گئیں اوران کی جانب سے کیئے گئے شفاف انتخابات کے دعوے دھرے رہ گئے۔
ویمن میڈیا سینٹر کی الیکشن مانیٹرنگ ٹیم کو کراچی کے بہت سے حلقوں میں انتخابی انتظامات کی ناقص صورتحال اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے بنائے گئے قوانین کی پامالی نظر آئی۔ ہر پولنگ اسٹیشن میں مو بائل فون کا استعمال جاری رہا جبکہ ای سی پی کے احکامات کے بر عکس کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر cctv کیمرے نصب نہیں دکھا ئی دیے۔ پولیس کی واضح نفری پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر نظر آئی لیکن رینجرز کی تعداد کم اور فوج صرف فلیگ مارچ کی حد تک ہی نظر آئی۔
NA-249 حلقہ
ان حلقوں میں انتظامات کی ناقص صورتحال دیکھنے میں آئی۔ NA-249 کے پولنگ اسٹیشن شہید بے نظیر بھٹو لیاری میں ووٹرز کی بڑی تعدادہونے کے باوجود پولنگ کا عمل2گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا ۔پولنگ اسٹاف نے تاخیر کا سبب انتخابی سامان کی دیر سے فراہمی بتایاجبکہ وہاں موجود لیاری کے سینئر نائب صدر الطاف حسین میمن نے wmc کی نیوز ٹیم کو بتایا کہ انہیں ووٹ ڈالنے کی حق سے محروم کیا جا رہا ہے انتخابی عمل دیر سے شروع کیا گیا اور زیادہ تر ووٹرز کا اندراج ہی غلط کیا گیا ہے۔انھوں نے احتجاج کیا کہ کھلے عام دھاندلی کی جا رہی ہے کھلی ہوئی سیل والے بیلٹ باکسز دیئے گئے ہیں ۔انھوں نے ایم کیو ایم پر الزام لگایا کہ اس نے انتخا بی عمل ہائجیک کر لیا ہے اور بیوروکریسی ٹیکنیکل کھیل کھیل رہی ہے۔
NA-249 اور PS – 110, 111 :
لیاری کے پولنگ اسٹیشن گورنمنٹ گرلزپرائمری اینڈسیکنڈری اسکول سینگولین میں بھی یہی صورتحال نظرآئی۔ نیوز ٹیم کے اندر داخل ہوتے ہی وہاں ہلچل پھیل گئی کیونکہ وہاں دھاندلی سے ووٹنگ کا عمل جا ری تھا۔مرد ،خواتین اور نوجوان ووٹرز کافی تعداد میں موجود تھے جبکہ اس علا قے میں خواتین ووٹرز کو گاڑیوں میں پولنگ اسٹیشنز تک لے جا تے ہوئے بھی دیکھا گیا جو کہ الیکشن کمیشن کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی تھی۔
NA-250 حلقہ
NA-250 کا حلقہ سب سے زیادہ اہم حلقہ تھا جس میں ایم کیو ایم کی خوش بخت شجاعت ، پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عارف علوی اور جماعتِ اسلامی کے نعمت اللہ خان کا مقابلہ تھا۔ اس علاقے میں سٹی کورٹ کے باہر ایم کیو ایم کے کارکنوں کے ہمراہ خوش بخت شجاعت ا حتجاج کر رہی تھیں۔ ان کے حامیوں کی جا نب سے یہ نعرے لگائے جا رہے تھے کہ پی ٹی آئی اور جماعتِ اسلامی مل کر انتخابات میں دھاندلی کر رہی ہیں اور ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عارف علوی پر الزام لگایا گیا کہ وہ سٹی کورٹ سے بیلیٹ باکسز اور بیلیٹ پیپرز لے گئے ہیں ۔بعد ازخوش بخت شجاعت کو اندر جانے دیا گیا جبکہ میڈیا اور کچھ لوگوں کو اندر جانے سے روک دیا گیا۔
عبداللہ شاہ غازی کلفٹن میں واقع NA-250 اور PS-112 کے پولنگ اسٹیشن گورنمنٹ گرلز پرائمری اینڈسیکنڈری اسکول میں بھی صورتحال کچھ الگ نہ تھی۔ووٹرز کی لمبی قطاریں صبح ۸ بجے سے سخت دھوپ میں ووٹ ڈالنے کے لیے لگی ہوئی تھیں جبکہ پولنگ عملہ بہت سست روی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پایا گیا۔ لائن میں کھڑے ایک ووٹر عمر خان نے WMC نیوز ٹیم کو بتایا کہ پولنگ کا عمل صبح 9:30 بجے شروع کیا گیا ہے جبکہ عملہ بھی پورا موجود نہیں۔اس نے بتایا کہ وہ ملک کے حالات سے تنگ آکر ووٹ ڈالنے کے لیے نکلا ہے اور تبدیلی کا خواہاں ہے۔
PS 128,NA-255 حلقہ
NA-255 کے ایک پوش علا قے ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کے پولنگ اسٹیشن نیلم ہائی اسکول میں کافی تعداد میں ووٹرز لائنوں میں موجود تھے جن میں واضح اکژیت نوجوانوں کی تھی۔ ایک خاتون ووٹر نے نیوزٹیم سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں ڈھائی گھنٹے کی تاخیر سے پولنگ کا عمل شروع ہوا ہے۔ اس پولنگ اسٹیشن میں بھی موجود نوجوانوں غرض کہ ہر فرد کو ہی موبائل فون استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ ایک فرق یہ دیکھنے میں آیا کہ وہاں صرف مرد و خواتین کے ہی پولنگ بوتھ الگ نہیں تھے بلکہ امیر اور غریب کے بھی پولنگ بوتھ علیحدہ بنائے گئے تھے۔ PS-128 کے پریزائڈنگ آفیسر اللہ وڈایو چنّا سے اس تفریق کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ انھیں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعلی عہدیداروں کی جانب سے الگ الگ بوتھ بنانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
11مئی ۲۰۱۳ء کے انتخابات میں جہاں ووٹرزکا واضح ٹرن آؤٹ دیکھنے میںآیا وہیں دھاندلی کے بھی سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ مجموئی طور پر امن و امان کی صورتحال کسی حد تک بہتر تھی۔ صبح کے وقت زیادہ تر میڈیکل اسٹورز کھلے ہوئے نظر آئے اور کچھ دکانیں، بیکریز اور پیٹرول پمپز بھی کھلے ہوئے دکھائی دیئے۔ لیکن پو لنگ ا سٹیشنز میں پولنگ کے ناقص انتظامات، عملے کی عدم موجودگی ، قابلِ اعتراض رویّے اور دھاندلی کی وجہ سے کراچی کے انتخابات پربرا ثر پڑا جس کا سب سے زیادہ اثر کراچی کے حلقے NA-250 پر ہوا۔ سب سے نمایاں بات یہ دیکھنے میں آئی کہ لوگ دہشتگردی سمیت ہر خوف کو پسِ پشت ڈال کر تبدیلی کی اْمید لیے ووٹ ڈالنے اپنے گھروں سے نکلے اور ان میں کافی جوش و خروش بھی پایا گیا۔
(فریال علی ، خصوصی نمائندہ ڈبلیو ایم سی برائے کراچی )
“Voters angry due to delayed Polling”
Election 2013 NA-250
Election Monitoring Cell
Women Media Center — at Karachi.
































